روس یوکرین جنگ


 
روس یوکرین جنگ

نظام عالم پر بالادستی کی روس امریکہ مسابقت کا ایک پہلو

حافظ محمد عبد اللہ   alhafizabdullah@gmail.com

کیپٹلزم جس پر آج امریکہ اور یورپ کا سارا نظام چل رہا ہے یہ دراصل وہ معاشی و اقتصادی پالیسی ہے جس کے ذریعے امریکہ  پوری دنیا میں اپنے مفادات کو فروغ دیتا ہے ۔یہی وجہ ہے  کہ یورپ  کو آج اس امریکی دفاعی و  معاشی پالیسی کا پوری طرح تابع فرمان منطقہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔

دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد 1948 ء میں امریکی صدر ہیری ٹرومین نے جنگ سے  تباہ حال  اور شکست و ریخت کا شکار براعظم یورپ کی تعمیر نو کے لئے مارشل پلان منظور کیا تھا۔اس پلان کی رو سے 130 ارب ڈالر کی خطیر رقم یورپ کو اس کی  تعمیر نو کے لئے دی جانے تھی۔بظاہر یہ فیاضانہ امداد تھی تاہم واشنگٹن اس رقم کے ذریعے دنیا میں " سپر پاور" کی حیثیت سے اپنی نئی سیاسی شناخت کو بھی متشکل کرنا چاہتا تھا ۔ایک ایسی سپر پاور  جو سابقہ استعماری طاقتوں  برطانیہ ،فرانس،اٹلی ،ہالینڈ ،اسپین وغیرہ کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد پوری دنیا پر اپنی طاقت کا سکہ  جمانے پر قادر تھی۔

اس مقصد کے حصول کے لیے  پھر اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا ،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے   کھڑے کیے گئے اور نئے  دفاعی انتظامات  کی خاطر ناٹو قائم کی گئی ۔دیکھنے کو بظاہر یہ ادارے عالمی ہیں لیکن فی الاصل  یہی وہ  سیاسی،معاشی اور دفاعی ٹولز  اور ہتھیار ہیں  جن سے  امریکہ دنیا بھر میں اپنے  مفادات  کی حفاظت اور ترویج کا کام لیتا ہے  ۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد صدر امریکہ  ہنری ٹرو مین نے اپنے وزیر خارجہ جورج مارشل کے تعاون سے   امریکہ میں ایک ہائی پروفائل کمیٹی قائم کی تھی  جس کے ارکان بڑے بڑے  امریکی بزنس ٹائکونز جنرل ،فورڈ،کوکا کولا،جنرل الیکٹرک ،گولڈ مین ساکس وغیرہ تھے ۔اس کمیٹی کا مقصد یورپ کو دی جانے والی  مجوزہ معاشی  امداد کی شکل و صورت طے  کرنا تھا تاکہ اس امداد  کا حقیقی فائدہ امریکی معیشت کو ہو سکے ۔کمیٹی  کی تدابیر کامیاب رہیں اور  اس امداد کے ذریعے اس نے   میں یورپ کی کرنسی مارکیٹ کو  اس حد تک مضبوط کردیا کہ یورپ ،امریکی مال کی خریداری پر قادر ہو  گیا ۔

اس پلان کا دوسرا جزویورپ کے دفاع کو مضبوط کرنا اور دنیا بھر میں  امریکہ کے مفادات  کا تحفظ کو یقینی  بنانا تھا۔دنیا میں ایک ایسا دفاعی  نظام  تشکیل دیناتھا جو امریکہ کے عالمی مفادات کو محفوظ تر بنا سکے ۔لہذا معلوم انسانی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری اتحاد ناٹو کے نام سے بنایا گیا جس کی سربراہی امریکہ کے پاس تھی ۔اس  فوجی اتحاد کی بنیاد یورپ کے اس خوف اور فوبیا پر رکھی گئی تھی  جس کا مشاہدہ وہ ایڈوولف ہٹلر کی قیادت میں اور  رائخ سوم کی صورت میں کرچکا تھا ۔

 امریکہ نے یورپ  پر اپنی انویسٹمنٹ سے  کس طرح فائدہ اٹھایا اسے اگرہم اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھنا چاہیں تو  وہ کچھ یوں نظر آتے ہیں ۔یورپی یونین، امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دہائیوں سے ہے امریکہ نے2016ء میں پانچ سو بانوے ارب ڈالر کی اشیاء اور خدمات یورپ سے امپورٹ  کی تھیں  جبکہ  اس کے مقابل  501 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس یورپ کو کیں ۔یہ امریکہ کی کل عالمی تجارت کا 19 فیصد بنتا ہے اور یہ امریکہ کی جی ڈی پی  کا بھی 19  فی صد ہے ۔

تاہم سابق صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرامپ نے وائٹ ہاؤس میں آتے ہی اپنے دفاعی و عسکری حلیف نیٹو کے رکن  یورپی ممالک  کے خلاف اپنا لب و لہجہ سخت کردیا تھا ۔ٹرامپ نے اپنے ایک آتشیں خطاب میں یورپین یونین کو دشمن تک قرار دے ڈالااور اس سے مطالبہ کیا کہ ناٹو کا بوجھ اٹھانے کے لیےاپنا حصہ اپنی  جی ڈی پی کے 2.5 فی صد تک بڑھائے۔ لیکن یورپین ممالک  نے ان کے مطالبہ کو ناصرف رد کردیا بلکہ افغانستان  میں ملنے والی شرمناک رسوائی کے تناظر میں  ناٹو کے وجود اور اس کے حقیقی  فوائد و ثمرات پر بھی سنجیدہ سوالات  اٹھادئیے ۔

ناٹو کے اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے کے حوالے سے جو  عمومی بیزاری  یورپین ممبران میں پائی جاتی ہے اس کا ایک سبب  اس کی فیصلہ سازی میں   یورپی ممالک کا غیر مساویانہ حصہ ہے ۔یورپی ملکوں کاناٹو کی فیصلہ سازی میں حصہ  اس قدر نہیں ہے جس قدر کہ اس کے اخراجات  کا بوجھ اٹھانے میں ان کا بالفعل مالی کنٹری بیوشن ہے ۔اسی طرح نیٹو بجٹ کی  رکن ممالک کو تفویض بھی  قطعا غیر مساوی ہے ۔مثال کے طور پر پر واشنگٹن  ناٹو اخراجات کا 16 فیصد برداشت کرتا ہے اور جرمنی بھی ناٹو اخراجات کا 16 فی صد ہی ادا کرتا ہے  لیکن دونوں ممالک کی آبادی میں بہت بڑا تفاوت ہے۔

اس دفاعی اتحاد میں اختلافات کا ایک سبب وہ بھی ہے جسے فرانس نے  ہے امریکہ کی طرف سے اتحادیوں  کو ذلیل کرنے  کے رویے سے تعبیر کیا ہے ۔امریکہ اور فرانس کے درمیان گرما گرمی اس وقت اور بڑھ گئی تھی  جب آسٹریلیا نے فرانسیسی آبدوزوں کی خریداری کا معاہدہ کالعدم کرتے ہوئے انگلینڈ اور امریکہ کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے" آرکس "میں شمولیت اختیار کر لی۔

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکرون  کی طرح کچھ اور یورپی رہنماؤں نے بھی امریکہ طالبان معاہدہ اور افغانستان،شام اور عراق سے ناٹو فوجی  انخلا کو امریکہ کی طرف سے اتحادیوں  کی تذلیل  اور رسوائی قرار دیا ۔بلکہ فرانس اور جرمنی نے  باقاعدہ اس ضرورت  کا اظہار کیا ہے کہ یورپ کو امریکی چھتر چھایا کے بغیر اپنا بھی کوئی  دفاعی نظام ترتیب دینا چاہیے ۔

اس دفاعی انتظام کو لاحق ایک اور بڑا خطرہ جودن بدن بڑھتا جا رہا ہے وہ یورپی ملکوں میں انتہا پسند اور قوم پرست عناصر کا  اثر و رسوخ اور مختلف یورپی ملکوں میں ان  کا  بر سر اقتدار آنا بھی  ہے۔امریکی ادارے پیو کی  ایک رپورٹ کہتی ہے کہ یورپی حلقوں میں ناٹو کی ضرورت و اہمیت اور موجودہ حالات میں اس کی افادیت  پر ایک اضطراب  پایا جاتا ہے  اور اس  کی افادیت پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کار اس کی اضطراب کی  وجہ انتہا پسند،قوم پرستوں  کا بر سر اقتدار آنا قرار دیتے ہیں جیسے ہنگری میں فیکٹور اوربان کا وزیراعظم بننا جنھوں نے حالیہ یوکرین روس جنگ میں فوجی مدد کی فراہمی سے صاف انکار کیا ہے۔دوسری مثال سربیا کی ہے جس  نے اس جنگ میں امریکی موقف کی حمایت کی بجائے روسی صف میں کھڑا رہنا پسند کیا ۔اسی طرح فرانس کے موجودہ صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے انتہا پسند امیدوارایرک ازمور اور مارلین لوبان کی قبولیت عامہ ہے  اور یہ دونوں رہنما حالیہ جنگ میں یوکرین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یورپ کے ان انتہا پسند رہنماؤں کی صف میں اختلاف  کا ایک سبب  تو وہ تاریخی دشمنی ہے جوکاتھولیکس،آرتھوڈاکس اور پروٹسٹنٹس  کے درمیان ہمیشہ رہی ہے اور اب بھی ہے۔اس اختلاف کا دوسرا سبب ،جیسا کہ بیان ہو چکا ہے وہ انتہا پسند اور قوم پرست بیانیہ ہے اور یہ دونوں ہی ایسے عوامل ہیں جو یورپ  پر امریکی اثر و رسوخ  کو کم کرنے کا باعث بن رہے ہیں اور مزید بھی بنیں گے۔

تاہم امریکی مارشل پلان  کی تکمیل اورامریکہ اور اس کے   یورپی حلیفوں کے درمیان ساجھے داری برقرار رہنے یا  نہ رہنے میں بنیادی حیثیت جس  عامل کو حاصل ہے وہ اب بھی معیشت اور اس سے وابستہ دیگر عوامل کو  ہے ۔

معاشی میدان  کی بات کریں تو اس میں اب امریکہ کے علاوہ اور بھی ممالک  مسابقت کے لیے موجود ہیں جیسے چائنا۔ چائنا یوکرین کو  تاریخی شاہراہ ریشم کے ساتھ جڑنے اور پھر اس شاہراہ کے ذریعے یورپ  کے ساتھ جڑنے کے لیے گیٹ وے کے طور پر دیکھتا ہے ۔ دوسری طرف روس  مسابقت کے لیے میدان میں موجود ہے اگر یورپ اور روس کی کمپنیوں کی بڑھتی شراکت داری کو اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کیفیت کچھ یوں نظر آتی ہے ۔2020ء میں روس  یورپ کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر تھا  اور یورپی مصنوعات کی کل ایکسپورٹ کا 37 فی صد  روس کو جارہا تھا ۔ دوسری طرف روس یورپین یونین کو اپنی پٹرول ایکسپورٹس کا 26 فی صد اور نیچرل گیس ایکسپورٹس کا 40 فی صد دے رہا تھا۔اس طرح 2020ء میں روس اور یورپین یونین کی باہمی تجارت کا حجم 174 ارب یورو  تک پہنچ چکا تھا ۔تجارت کا یہ حجم اتنا بڑا  تھا کہ  یوکرین جنگ کے آغاز میں یورپی رہنماوں کےجنگ  کی حمایت  کرنے یا نہ کرنے  کے باب میں اختلافات کا سبب بنا۔

امریکا نے یورپ  کو ہونے والی  روسی ایکسپورٹس کے آگے بند باندھنے کے لئے  روس یوکرین جنگ کے آغاز   ہی میں جرمنی پر دباؤ ڈالا کہ روسی گیس پائپ لائن نورڈسٹریم 2 فوری طور پر بند کردے ۔ یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی صورت میں  اسے واضح  جواز بھی مل گیا

امریکی پابندی اور دباو ہی کا نتیجہ تھا کہ یورپ میں گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں یورو پر 5 فیصد دباؤ بڑھ گیا ۔گویا کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ جو اس خطے میں جنگ کو طول دینے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے اس کا واضح مقصد  یورپ کو روس کی بڑھتی ہوئی ایکسپورٹس  سے چھٹکارا  حاصل کرنا اور یورپ کے سامنے روس کو  ایک بار پھر بطور خوفناک دشمن کے پیش کرنا  بھی ہے جس کے نتیجے کے طور پر یورپ کو ایک بار پھر امریکی چھتری تلے پناہ لینا پڑے گی ۔

 

Comments

Popular posts from this blog

Minimalism

International Cat Day