مغربی زبانوں کے امت کی شناخت پر اثرات

مغربی زبانوں کے امت کی شناخت پر اثرات


اس وقت امت کو درپیش سب سے اہم چیلنج فکری اور نظریاتی ہے ۔نظریہ، فکر و فلسفہ اور ثقافت کی تشکیل میں اہم ترین کردار زبان کا ہوتا ہے غالبا یہی وجہ تھی  کہ  استعماری طاقتوں (برطانیہ ،فرانس ،پرتگال ،ہالینڈ،اٹلی اورروس وغیرہ) نے امت کو اس  کی اصل زبان ، قرآن ،علوم قرآن ،حدیث ، علوم حدیث، فقہ و اصول فقہ کی زبان یعنی عربی سے جدا کرنے کی باقاعدہ اور منصوبہ بند کوشش کی  ۔کبھی مقامی زبانوں کی ترویج و ترقی کے نام پراور کبھی عامی لہجے کو فروغ دے کر  تاہم اس ساری تگ و دو  کا  ہدف اصلی اپنافکری اور نظری تسلط قائم کرنا اور پھر امت کے  دین و عقیدہ ،فکر و نظر اور عمل و سلوک پر بالادستی حاصل کرنا رہا ہے ۔

 

آج آزادی کی نصف صدی کے بعد بھی عالم اسلام کی عملا کیفیت یہ ہے کہ فرانسیسی مقبوضہ علاقوں میں فرنچ اور برطانوی مقبوضہ علاقوں میں انگلش کی بالادستی بڑی حد تک قائم ہے ۔( اور ہمارے ہاں تو میڈیم آف ایجوکیشن ہی انگریزی کو بنالیا گیا ہے)

 

آج بھی اسلامی ممالک کی بڑی تعداد فکرو نظرمیں،فرنگی تہذیب و ثقافت کی انہی جکڑ بندیوں کے نیچے کراہ رہی ہے جو استعمار جاتے ہوئے ترکے میں چھوڑ گیا تھا ۔کنڈر گارٹن  اور ماقبل اسکول کی تعلیم سے لے کر پی ایچ ڈی اور پوسٹ پی ایچ ڈی تک کے سارے تعلیمی سلسلے اور نظام کو دیکھ لیں آپ کو ہرمرحلے پر اور پورے عالم اسلام میں ہر جگہ فرنچ ،انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں کا تسلط بھی نظر آئے گا اور ان ملکوں کے تعلیمی ایجنڈے میں ان  زبانوں کےسیکھنے سکھانے (تعلیم) کو اولیت بھی دکھائی دے گی ۔

ایسا کیوں ہے؟ ہم اب تک  اور خواہش کے باوجود اس تسلط سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ ان زبانوں کو سیکھنے نہ سیکھنے کا اتنا نہیں ہے جتنا بطور امت مسلمہ کے ہمارے اپنے ارادے  کی کمزوری،منفی سوچ،اور ہمارے  معیارات میں در آنے والی کجی کا ہے۔عربی کے بارے میں  ہمارا  موجودہ طرز عمل یہ ہے کہ امت کی یہ اصلی  زبان ہماری ترجیحات میں کہیں نہیں ہے اور نہ اس کا سیکھنا سکھانا اور زندگی کے ہر میدان میں اس کا فروغ اور ترویج ہمارے تعلیمی ایجنڈے  ہی کا حصہ ہے۔

 

زبان کا معرکہ جو مغرب نے مغلوب مسلمان اقوام کے خلاف چھیڑ رکھا ہے فی الحقیقت یہ فکر و نظراور ایمان  وعقیدے کا معرکہ ہے جس کی جڑیں حق و باطل کے حقیقی  اور ازلی معرکے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔  

 

بہت بڑی غلطی ہوگی اگر ہم زبان کو فقط کمیونیکیشن اور ایک دوسرے سے مخاطب ہونے کا ذریعہ جانیں ۔کسی قوم کی زبان اس کے قومی وجود اور اس کی ملی شناخت کی تشکیل میں اہم ترین عنصر کی حیثیت رکھتی ہے ۔

 

یورپین زبانوں کی ترویج کے پیچھے عربی سے امت کو کاٹ دینے کا ہدف ہے جس کا اگلا مرحلہ دین سے بیگانگی اور عدم واقفیت کا ہوتا ہے اور اس سے اگلے مرحلے میں دین سے وابستگی میں کمزوری در آتی ہے۔

طاغوت کا یہ ہدف پورا ہوگیا تو انجام کار امت کے پاس ایک بھی ایسی زبان نہیں رہے گی جو اسے ایک اکائی میں پرو سکےاور جو مسلمانوں کو فکر ونظر میں یکتا اور یکجا کرسکے ۔استعمار  بخوبی جانتاہے کہ  عربی زبان کے  کمزور پڑنے سے ان کی شناخت کمزور پڑجائے گی اور اس طرح ان پر تسلط پانا سہل  ترہوجائے گا ۔

 

استعماری پالیسی کا ہمیشہ سے یہ  حصہ رہا ہے  اپنے زیر قبضہ علاقوں پر فکری ،ثقافتی،اور لسانی تسلط قائم کیا جائے اور یہ پالیسی استعمار کے جانے کے بعد اب بھی جاری و ساری نظر آتی ہے ۔ 

 

بہت سے مسلمان ممالک میں اب بھی باہم رابطے اور سرکاری دفاتر میں  کام کاج کی زبان انگریزی اور فرانسیسی ہے۔لگتا ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں پر یہ حقیقت ابھی کھلی نہیں  کہ اس سے ہماری اسلامی شناخت مسخ ہورہی ہے اور بحیثیت مسلمان  ہمارے ملی وجود کو خطرات لاحق  ہورہے ہیں ۔

 

ہم نے اپنے دستورمیں عربی زبان کو اگر  اہمیت دی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ارض وطن پر اس اہم کام کی تنفیذ بھی یقینی بنائیں ۔

ایسے خصوصی ادارں کا قیام عمل میں لائیں جو تعلیمی و سرکاری سطح پر عربی کی ترقی و ترویج کی کوشش کریں ۔انفرادی کوشش اگرچہ اپنی جگہ اہم ہے تاہم اس کا اثر بہر حال محدود ہوتا ہے اور یہ ان کوششوں سے بہرحال فروتر ہے جو استعمار اپنے اداروں اور اپنے مسلط کردہ گماشتوں کے ذریعے اپنی فکری بالادستی قائم رکھنے کے لیے کررہا ہے ۔

اس صورت حال کا مقابلہ بہرحال ریاست کو کرنا ہے اور ریاست کے پیچھے  کردار کارفرما اور کارساز افراد کا ہوگا تاکہ مقابلہ میں کچھ توازن آسکے ۔

 

اسلامائزیشن آف نالج کے لیے اور نالج کو زیادہ سے زیادہ اپنی زبان میں ڈھالنے کے لیے ایک ایسا واضح پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس سے امت مسلمہ کی زبان اور اس کی شناخت کی بحالی ممکن ہوسکے ۔کچھ صدیاں قبل مغرب،اسلامی تہذیب کے ساتھ تعامل میں  کامیابی کے ساتھ یہ تجربہ اپنے ہاں دہرا چکا ہے ۔ یورپ  نے اسلامی علوم کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچایاتھا۔ ترجمہ کی اس عظیم الشان  مشق کا ایک مقصد جہاں  اپنی نئی نسل کی زبان کی حفاظت تھا وہیں عربی اور اس کے ذریعے سے دین اسلام  کے پھیلاو کو روکنا بھی عین مطلوب تھا ۔ عربی زبان کی ترقی و ترویج  در اصل دین کی ترقی و ترویج ہے، اپنی تاریخ سے آشنائی بھی ہے اور اپنی شناخت کی بازیابی بھی ۔

 

 

ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے اپنے ملکوں میں  استعماری طاقتوں کی اپنی زبان کی ترویج کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ناقدانہ جائزہ لیں ۔تحقیق کریں کہ اینگلو اورفرنچ زبان کے تسلط سے ہمارا فکر و فلسفہ اور ہمارانظام ہمارا قومی اور انفرادی اخلاق و کردار کتنا زہر آلود ہوا ہے ۔بالخصوص نئی نسل کو اس زہرناکی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب اور نظام کے جزو جزو کا ازسر نو جائزہ لیں کہ انگریزی کی ترویج کے نام پر ہماری نسلوں کو کس طرح ایمان اور عقیدے کی دولت محروم کیا جاتا رہا ہے ۔   

 

سامنے کی حقیقت  یہ ہے کہ جو نوجوان ایام شباب میں ان مغربی زبانوں کو سیکھتا ہے وہ زبان کے ساتھ ساتھ ان قوموں کی ثقافت و تہذیب کے اصول بھی حرز جان بناتا ہے۔نہ صرف ان کی بولی بولتا ہے بلکہ اس کے دل میں اپنے ملک اور اپنی قوم و ملت کی محبت سے زیادہ مغربی تہذیب و ثقافت اور پھر مغربی ممالک کی محبت گھر کر جاتی ہے  ۔

 

کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ امت مغربی ثقافت و فکر کے تسلط سے جان چھڑائے جس نے اسکی فعالیت کو زنگ آلود کرکےاسے تجدید  و اجتہاد اور ایجاد و ابتکار سے محروم کر رکھا ہے ۔ خوش آئند ہیں یہ جو مختلف اطراف سے قومی زبان اور عربی کی ترویج و اشاعت کے لیے آوازیں سنائی دے رہی ہیں در اصل یہ صحت مندی کی علامتیں ہیں ۔یہ مغربی فکر و فلسفہ کی بالادستی  کے خطرے  اور اس کی زہرناکی سے اپنے آپ کو اور آنے والی نسلوں کو گھرا ہوا پاکرگویا   بچاو کی ایک   کوک ہیں ۔عربی زبان کی موثر تدریس کے  یہ مطالبات امت  مسلمہ کی ہوشمندی اور بیداری کی وہ علامتیں  ہیں جو تحریکات اسلامیہ کی برسوں کی  کدو کاوش کا ثمرہ ہیں۔  

 

مقامی زبانوں  اور لہجوں کی ترقی بھی اس لیے استعماری ایجنڈے کا حصہ بنی تھی کہ قابض طاقتوں کو جب احساس ہوا کہ غلام قوموں میں بیداری آتی جارہی ہے اور اس کی مسلط کردہ  اجنبی زبان کے تسلط کو خطرہ لاحق ہورہا ہے تو اس نے مقامی بولیوں اور مقامی لہجوں کی ترقی کا ڈول ڈالا۔ادارے قائم کیے گئے اور ماہرین مقرر کیے گئے۔

فی ذاتہ زبان میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا مسئلہ ہوتاہے فکر ی توازن کھو بیٹھنے اور غیروں کی  اندھی تقلید اور پیروی سے۔زندگی کے ہر میدان میں فکری اور لغوی توازن دونوں ہی ضروری ہیں ۔ان دونوں میں  جس قدر توازن ہوگا اسی قدر انسان کی شخصیت  بھی متوازن ہوگی اور صلاحیت کار  اور  اس کے تخلیقی کارنامے بڑھیں گے ۔یہی واحد ایسی چیز ہے جس سے انسان دوسروں کا احترام حاصل کرپاتا ہے اور اس کی ذات بھی ممتاز اور نمایاں ہوتی ہے۔ ملت کےنوجوانوں کوآج کے زمانے میں اسی چیز کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زبان سے جڑکر اپنی شناخت پاسکیں اور اس پر فخر کریں ۔

 

کیا ہمارے لیے کسی طرح بھی مناسب ہے کہ ہم اوروں کی زبان کو تو سینے سے لگائے رکھیں اور اپنی زبان اور ثقافت سے یکسر غافل ہوجائیں۔اوروں کے لیے نفعمند بنیں اور اپنے حق میں سود فراموش رہیں۔ایسا کرنےہم کبھی لیڈنگ پوزیشن میں نہیں آسکیں گے بلکہ اوروں کی پیروی کرنے والے ذہنی غلام ہوں گے ،بے توقیر، جن کا نہ کوئی اصول  زندگی ہوگااور نہ کوئی مسلک ۔

 

اپنی اپنی زبان کی ترقی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان کیسی کشمکش جاری ہے ۔ہر ایک کی خواہش ہے کہ میں چار دانگ عالم میں  اپنی زبان کی تعلیم کو ترقی دوں اور اس کا اثر و نفوذ بڑھاوں ۔اس مقصد کے حصول کے لیے بجٹ کا بڑا حصہ وقف کیا جاتا ہے۔ کس لیے؟ صرف اس لیے کہ ہماری زبان جہاں جہان اثر و  نفوذ پائے گی اتنا ہی  مغلوب قوم پر ہمارا تسلط بڑھتا جائے گا۔ 

فکری انحراف کا شکار بعض لوگ یہ گمان بھی رکھتے ہیں  کہ مغربی زبان بولنے کا مطلب ترقی یافتہ ہونا ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تابع داری اور اپنی شناخت سے دست برداری کا نام ہے ۔چینیوں اور جاپانیوں کو دیکھ لیجئے کیسے اپنی محفلوں اور تہواروں پر اپنی زبان  و ثقافت کو محبوب رکھتے ہیں جب کہ آج امت کا فرزند اپنی زبان ،قرآن کی زبان کو بولتے ہوئے جھینپتا ہے بسا اوقات کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر اس نے عربی کا ایک لفظ بھی استعمال کیا تو بھری محفل میں نکو بن جائے گا۔

 

عربی سے غفلت اور بہت سے سلبی امور پر منتج ہوتی ہے ۔الرافعی کا یہ کہنا کافی ہے کہ کسی قوم کی زبان کی توہین شروع کردو وہ قوم خود ہی ذلیل ہوجائے گی ۔اپنی زبان سے شرمائے گی اور اس کی شان و شوکت قصہ پارینہ بن جائے گی۔اسی قاعدے کے مطابق استعمار مغلوب اقوام پر اپنی زبان تھوپنے اور اپنی ثقافت کی شان و شوکت سےمرعوب کرنے کی کوشش کرتا ھے۔استعمارنے اپنے لسانی ایجنڈے کو مغلوب اقوام پر مسلط کرکے درج ذیل مقاصد حاصل کرتا ہے ۔

  • مغلوب قوم کی زبان چھین کر اسےحبس دوام دے دیتا ہے
  • ان کے ماضی سے انہیں کاٹ پھینکتا ھے
  • اور انہیں مجبور کردیتا ہے کہ مستقبل میں اسی راستے پر چلو گے جو میں تمارے لیے وضع کروں گا 


اس ساری بحث کا خلاصہ یہ نہیں ہے کہ ہم کسی کو کوئی اور زبان سیکھنے کا حق دینے سے انکاری ہیں یا دوسری زبان سیکھنے کے عمل کی اہمیت کو گھٹانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں ہم اس کے حق میں ہیں لیکن کچھ شرائط اور ضوابط کے ساتھ جو کوئی بھی جس مقصد کے لیے بھی زبان سیکھنا چاہے ضرور سیکھے ۔سیکنڈ لینگویج سیکھنا مطلوب اور مرغوب اور ذہانت کی علامت ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے نبی پاک نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیاتھا اور انہوں نے صرف پندرہ دن میں یہ زبان سیکھ لی تھی ۔ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ عربی کی قیمت پر کوئی اور زبان  نہیں سیکھنی  چاہیے ۔عقل سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ  ہم پہلے اپنی قومی اور پھر دینی زبان کو سیکھیں یہی ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں بالخصوص اسلامی تحریکات کے تعلیمی ایجنڈے میں الاھم فاالاھم کے فقہی اصول کے مطابق اہتمام کرنا چاہئے ۔ہمیں اپنا پیسا اور اپنا وقت ایک اجنبی زبان و ثقافت اور اانہی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے رہنے پر نہیں صرف کردینا چاہئیے ۔بلکہ اپنی ترجیحات کے مطابق اپنا ایجنڈا ترتیب دینا چاہئیے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Minimalism

روس یوکرین جنگ

International Cat Day